نئی دہلی،یکم اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی)مغربی بنگال سے بھارتیہ جنتاپارٹی(بی جے پی) کے رکن پارلیمان اور رواں ماہ مرکزی وزیر کے عہدے سے برطرف کئے جانے کے بعد بابل سپریو نے پارلیمان سے استعفےٰ دینے اور سیاست سے الگ ہونے کا اعلان کردیا ہے۔
انہوں نے اپنے فیس بک پیج پر بنگلہ زبان میں تحریر ایک پوسٹ میں یہ اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ ایک مہینے کے اندر اپنی سرکاری رہائش گاہ بھی چھوڑ دیں گے۔ واضح رہے کہ حالیہ کابینہ میں ردوبدل میں بابل سپریو کو مودی کابینہ سے خارج کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا ہے کہ عوام کی خدمت کیلئے سیاست میں آئے تھے۔وہ اس مقصد کو سیاست سے الگ ہونے کے بعد بھی پورا کر سکتے ہیں۔ ان کی طرف سے اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ ہمیشہ سے بی جے پی کا حصہ رہے ہیں اور رہیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ ان کے اس فیصلے کو سمجھیں گے۔پچھلے کچھ دنوں سے بابل سپریو کی خاموشی اور بی جے پی میں ان کے کم ہوتے کردار پر کئی سوالات اٹھ رہے تھے۔ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ بابل کوئی بڑا فیصلہ لے سکتے ہیں۔اب اپنی سوشیل میڈیا پوسٹس کے ذریعے بابل نے ان تمام تنازعات پر تفصیل سے بات کی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ پارٹی سے میرے کچھ اختلافات تھے۔ وہ چیزیں الیکشن سے پہلے ہی سب کے سامنے آچکی تھیں۔ میں شکست کی ذمہ داری بھی لیتاہوں لیکن دوسرے لیڈر بھی ذمہ دار ہیں۔